جب بھی کہتا ہوں کوئی تازہ غزل تیرے لیے

جب بھی کہتا ہوں کوئی تازہ غزل تیرے لیے
میرے احساس میں کِھلتے ہیں کنول تیرے لیے

جانتا ہوں ،کہ مرا دُشمن ِجاں ہے ،پھر بھی
دل کی ہر بات پہ کرتا ہوں عمل تیرے لیے

دُشمنی یوں تو کسی سے بھی نہیں ہے میری
صرف حالات سے ہے جنگ و جدل تیرے لیے

آنکھ جمنا ہے مری اس کے کِنارے آجا
میں نے بنوایا ہے اک تاج محل تیرے لیے

اپنا گھر غور سے دیکھا ہی نہیں تو نے قتیلؔ
یہ تو دُنیا میں ہے جنت کا بدل تیرے لیے

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *