روشنی اے روشنی

روشنی اے روشنی

اے روشنی ، اے روشنی

کرنوں کی پایل باندھ کر، اس شہر میں چھم سے اُتر

اے روشنی ، اے روشنی

مانا کہ لمبی رات ہے،اک خوف اس کے ساتھ ہے

پر تو اندھیروں سے نہ ڈر

اے روشنی ، اے روشنی

مجھ کو خبر دی چاند نے، تجھ کو یہ دھرتی بھا گئی

تو آسمانوں سے چلی، اور میرے گھر تک آ گئی

سارے اندھیرے چھٹ گئے

آنکھوں سے پردے ہٹ گئے

جب سے بنی تو ہم سفر

اے روشنی ، اے روشنی

گھر کو کھلا رکھا سدا، میں نے اُجالوں کے لیے

تو زندگی کی لہر ہے، میرے خیالوں کے لیے

شمعین جلا ادراک میں

تارے کھلا اس خاک میں

جگمگ کریں دیوارودر

اے روشنی ، اے روشنی

آکر مرے اس شہر میں ، کردے چراغاں چار سو

ایسا دکھا منظر کوئی، سب کو ہے جس کی آرزو

گلیوں کی رونق بن کے آ

سب راستوں کوجگمگا

سارے مکانوں پر بکھر

اے روشنی ، اے روشنی

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *