اِبتدائیہ

اِبتدائیہ

گھٹا چھم چھم برستی ہے ،تو چڑیا چہچہاتی ہے

مگر میں کیا کروں مجھ کو ہنسی دونوں پہ آتی ہے

کہ وہ اِک لمحہِ موجود کی جھوٹی گواہی پر

کبھی رو کر کبھی ہنس کر

غموں کا بھی خوشی کا بھی یقیں کرتی چلی جائیں

اگر چھم چھم برستی یہ گھٹا

اور چہچہاتی ناچتی چڑیا

اجازت مجھ کو دے سکتیں

تو میں غم اور خوشی کے سارے موسم

اپنے بس میں کرکے دکھلاتا

میں ہر منظر میں

سب اسرار پس منظر کےدکھلاتا

کہ میں انساں بھی ہوں

شاعر بھی ہوں

اور سوچتا بھی ہوں

مجھے تو آنسوؤں سے اور اپنے قہقہقوں سے

مشیت کے خلاف اِک اسلحہ خانہ بنانا ہے

نہیں آتا کسی کے تابعِ فرماں مجھے ہونا

میں خود مختار جینا چاہتا ہوں

میں خود مختار مرنا چاہتا ہوں

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *