جب کسی جام کو ہونٹوں سے لگایا میں نے

جب کسی جام کو ہونٹوں سے لگایا میں نے
رقص کرتا ہوا دیکھا ترا سایا میں نے

مجھ سے مت پوچھ مرے محتسب شہر سے پوچھ
کیوں تیری آنکھ کو پیمانہ بنایا میں نے ؟

لوگ کہتے ہیں قصیدہ وہ ترے حسن کا تھا
عام سا گیت جو محفل میں سنایا میں نے

میکدہ بند تھا لیکن جونہی گرجا بادل
اپنی توبہ کو چٹختا ہوا پایا میں نے

شعر و نغمات کا رشتہ کبھی ٹوٹا نہ قتیل
جب غزل بن کے وہ آیا اُسے گایا میں نے . . . !

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *