ہوا کی لہر کوئی چھوکے میرے یار سے آئی

ہوا کی لہر کوئی چھوکے میرے یار سے آئی
کوئی تازہ خبر یوں بھی سمندر پار سے آئی

لبوں سے کم اور آنکھوں سے بہت کرتا ہے وہ باتیں
بلاغت اس میں یہ پابندیِ اظہار سے آئی

وہ اس کی گفتگو، کلیاں چٹکنے کی صدا جیسے
یہ نرمی اس کے لہجے میں ہمارے پیار سے آئی

کشش رکھتا نہیں اب پھول میرے واسطے کوئی
کہ مجھ تک ہر مہک اُس زلفِ خوشبودار سے آئی

یہاں ہے جو بھی یوسف،خود زلیخاؤں کا گاہک ہے
روایت یہ نئی کیا جانے کس بازار سے آئی

وہ اک مغرور سی لڑکی،خوشی جس کا تخلص ہے
مرے پاس آگئی لیکن بڑے اصرار سے آئی

اندھیروں نے قتیل ؔاکثراُسی دیوار سے جھانکا
اُتر کر دھوپ میرے گھر میں جس دیوار سے آئی

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *