اقراء

اِقراء

پیمبر سے کہا جبریل نے:
اِقراء
پیمبر نے کہا:
میں پرھ نہیں سکتا
مگر اُس لمحہِ نورد تجلّی کا نتیجہ تھا
کہ اِک اُمّی وہ عالم بن گیا
روئے زمیں پر جس سے بڑھ کر
کوئی بھی علم و بصیرت کا مالک نہ تھا
یہیں تک ختم ہوجاتا نہیں یہ سلسہ علم و بصیرت کا
پیمبر کے غلاموں تک نے پائی روشنی
علم و بصیرت کی
اُجالا ہو گیا مشرق سے مغرب تک
کہا میرے زمانے سے گزرتے وقت نے
اِقراء
کہا میرے زمانے نے
مجھے پڑھنا تو آتا ہے
مگر میں بھول جانا چاہتا ہوں سارے لفظوں کو
اور ان لفظوں میں پوشیدہ ہر اِک علم و بصیرت کو
کتابیں غرق ِدریا کرکے اطمینان و راحت چاہتا ہوں میں
کہ اب ایسا ہی کرنا چاہیے مجھ کو
گزرتے وقت نے پوچھا بھلا کیوں؟
کہا ــــــ علم و بصیرت اور کتب خانے مرے کس کام کے
جب ہر چوراہے پر
بلند آواز لاوڈ اسپیکروں سے وہ سبھی کچھ نشر ہوتا ہے
نفی ہوتی چلی جاتی ہے جس سے دم بدم عِلم و بصیرت کی
پھر اس کے ساتھ سچّی بات تو یہ ہے
نہ میں کوئی پیمبر ہوں نہ تو کوئی فرشتہ ہے
میں تیری بات کیوں مانوں ـــــ؟

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *