اپنے لبوں کو دشمنِ اظہار مت بنا

اپنے لبوں کو دشمنِ اظہار مت بنا
سچے ہیں جو انہی کو گنہگار مت بنا

دل کو دُبا دُبا کے نہ رکھ دھڑکنوں تلے
بے چینیوں کے لطف کو آزار مت بنا

جتنے بھی لفظ ہیں وہ مہکتے گلاب ہیں
لہجے کے فرق سے انھیں تلوار مت بنا

ترکِ وفا کا جُرم نہ مانے گا تو نہ میں
اِس مسئلے کو باعثِ تکرار مت بنا

الزام کچھ تو گردشِ ایام کو بھی دے
اپنے ہر ایک غم کو غمِ یار مت بنا

آمیرے بازوؤں میں کہ ساحل پہ جا لگیں
اِس موج موج وقت کو منجھدار مت بنا

تیرا یہ ضبط، اور وہ شعلہ سا آدمی
سورج کے آگے موم کی دیوار مت بنا

شاید وہ تیرے منہ پہ ہی سچ بولنے لگے
چہرے کو آئینے کا پرستار مت بنا

ہر ایک کے لئے نہ کھلا رکھ اسےقتیلؔ
یہ دل ہے ایک گھر اسے بازار مت بنا

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *