صحراوں میں اک چھاؤں سی بکھراتی رہے گی

صحراوں میں اک چھاؤں سی بکھراتی رہے گی
رُت کوئی بھی ہو، زُلف وہ لہراتی رہے گی

تم چھین تو لو گے مرے ساون کی گھٹائیں
آواز پپیہے کی مگر آتی رہے گی
*پپیہے = کویل کی طرح کا مگر اس سے چھوٹا ایک خوش آواز پرندہ، اسے سنسکرت میں چاتک کہتے ہیں

جاتا رہا خوابوں میں خلل ڈالنے والا
اب دن میں بھی اکثر تمھیں نیند آتی رہے گی

بخشے گی نہ اس کو کوئی سورج کی عدالت
یہ رات ستاروں کی قسم کھاتی رہے گی

کچھ ضبط نہ کر پائیں گے عشّاق بھی تیرے
کُچھ صورتِ حالات بھی جذباتی رہے گی

صحرا کو نہ چھوڑے گا کبھی شہر کی خاطر
دُنیا تِرے دیوانے کو سمجھاتی رہے گی

تُجھ پر بھی قتیل آن پڑی جب کوئی اُفتاد
سب زندہ دلی یار تری جاتی رہے گی

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *