بے ذوق تھی یا حُسن سے آگاہ تھی پہلے

بے ذوق تھی یا حُسن سے آگاہ تھی پہلے
کیسی تری دُنیا مرے اللہ تھی پہلے

میں نے تو سُنا ہے کہ یہ دُنیا تری یا رب!
شاعر کے خیالوں کی گزرگاہ تھی پہلے

کرنے کو ہے انسان خلاؤں کو بھی آباد
جو آج حقیقت ہے وہ افواہ تھی پہلے

اب واعظ و ناصح جہاں کرتے ہیں عبادت
کہتے ہیں وہ اِک رند کی درگاہ تھی پہلے

چھینا ہے مِرا جام اُن آنکھوں نے وگرنہ
اس چیز سے بچنے کی کہاں راہ تھی پہلے

تھا رشک رقیبوں کو مرے حُسن نظر پر
اک حسن کی دیوی مرے ہمراہ تھی پہلے

نزدیک سے دیکھا ہے قتیلؔ اب کے گھر اپنا
جنت کی مرے دل میں بُہت چاہ تھی پہلے

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *