اک بار جو تک لے اُسے تکتا ہی چلا جائے

اک بار جو تک لے اُسے تکتا ہی چلا جائے
شعلہ سا بدن اس کا دہکتا ہی چلا جائے

کردار ادا جب میں کروں بادِ صبا کا
وہ پھول کی مانند مہکتا ہی چلا جائے

حالات کی بجلی نے کیا راکھ نشیمن
پر آس کا پنچھی کہ چہکتا ہی چلا جائے

آجائیں میسر جسے آنکھوں کے وہ ساغر
وہ رند تو پی پی کے بہکتا ہی چلا جائے

پھولوں کو توقع ہے نہ امکان ثمر کا
اک پیڑ مگر پھر بھی لہکتا ہی چلا جائے

ہم لاکھ مہذب ہوں مگر تم ہی بتاؤ
جب ضبط کا پیمانہ چھلکتا ہی چلا جائے

ہر گام پہ الزام قتیلؔ اب بھی ہیں لیکن
اُن پاوں میں بچھوا جو چھنکتا ہی چلا جائے

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *