ٹوٹے گی دیوار

ٹوٹے گی دیوار

کچھ روز سے زنداں نظر آتی ہے یہ دُنیا
اب کچھ تو یہاں اہلِ نظر ہو کے رہے گا
اَنسان سمٹتا ہی چلا جائے کہاں تک
لگتا ہے کہ دیوار میں در ہو کے رہے گا

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *