سلسلہ خیالوں کا

سلسلہ خیالوں کا

جن کے تنکے تک مجھ کو پہچانتے ہیں
یاد مجھے وہ تیری گلیاں آج بھی ہیں
جن کو حاصل رہا سدا رتجگا کوئی
میرے ذہن میں وہ رنگ رلیاں آج بھی ہیں
آج بھی میں سوچوں تو ایسا لگتا ہے
ہونٹ تِرے مصری کی ڈلیاں آج بھی ہیں
جب میں بیتے وقت کی باتیں کرتا ہوں
کچھ مرجھائے پھول مہکنے لگتے ہیں
کہوں ترے پس منظر میں جب کوئی غزل
بہت پُرانے جام کھنکنے لگتے ہیں
اب بھی گنتا ہوں جب نام رقیبوں کے
لوگ مجھے حیرت سے تکنے لگتے ہیں
—————–
چومتا ہوں میں اُن پیروں کو سپنوں میں
جن پیروں میں روشنیوں کی جھانجھن ہے
رات کو اکثر آنکھیں ڈھانپ کے سُوتا ہوں
جگمگ جگمگ یوں بھی میرا تن من ہے
کیا لینا مجھ کو اِن چاند ستاروں سے
میرے اندر تو اِک سورج روشن ہے
——–
بھڑکاتی ہے جس کو یاد جوانی کی
دیر تلک وہ شُعلہ سرد نہیں ہوتا
موسم کیسا بھی ہو خون چہکتا ہے
عمر کوئی ہو چہرہ زرد نہیں ہوتا
یاد نہ رکھے جو اقرار وفاؤں کے
وہ سب کچھ ہوتا ہے مرد نہیں ہوتا

———

عمر کے جس رستے پر میں نے پاؤں دھرے
میرے جسم کے ساتھ چلا ہے جسم ترا
پکڑے رہا میں وقت کی اُنگلی جہاں تلک
پل پل مجھ پر چھایا رہا طِلسم ترا
رستہ روکیں جب حالات کے اندھیارے
روشنیاں دیتا ہے مجھ کو اِسم ترا

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *