گزرا ہے بیگانہ بن کر کیسا وہ

گزرا ہے بیگانہ بن کر کیسا وہ
کبھی نہیں تھا آج سے پہلے ایسا وہ

اندر اندر ٹوٹا سا اِک پیمانہ
باہر باہر لال گلابی مئے سا وہ

میں نے جھانک کے دیکھا اُس کی آنکھوں میں
وہ لگتا ہے جیسا نہیں تھا ویسا وہ

چوٹ لگی ہے شاید اُس کے بھی دل پر
آج دکھائی دیتا ہے مجھ جیسا وہ

میرا اور اصول ہے اُس کا اور قتیلؔ
پیار ہی پیار ہوں میں ، پیسہ ہی پیسہ وہ

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *