جیسا اس کے لیے سنا تھا ویسا ہے

جیسا اس کے لیے سنا تھا ویسا ہے
میں نے برسوں بعد اُسے اب دیکھاہے

ہر منظر کا ہوتا ہے اِک پس منظر
وہ لاکھوں میں ایک ہے لیکن تنہا ہے

میں دریا بن جاؤں بھی تو کیا حاصل
وہ ہے سمندر اور صدیوں کا پیاسا ہے

گیا تھا جب وہ اُس دن آگ بگولا تھا
واپس آیا ہے تو برف کا پتلا ہے

پھر ماضی کو چوما اس کے ہونٹوں نے
پھر اک لفظ مرے کانوں میں رویا ہے

میلہ لگا ہے چار طرف سنّاٹوں کا
کہیں کہیں کوئی سایا سسکی لیتا ہے

کانچ کا ہر جذبہ پیچھے ہم چھوڑ آئے
اب تو اپنا پکّی عمر کا رشتہ ہے

مجھ کو اپنے حال پہ آئے رحم قتیلؔ
میں نے اِک پنچھی کو اُڑتے دیکھا ہے

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *