کوکھ جلی

کوکھ جلی
(عاصیؔ رضوی مرحوم کی مختصر پنجابی نظم کا پھیلاؤ)

گاؤں سے باہر،
ٹیلے والی، اک درویش کی قبر کے اوپر
آدھی رات کو
جھلمل کپڑے، جگمگ زیور پہنے ہوئے
وہ کون تھی دیا جلانے والی
سب کچھ ہوتے جانے وہ کیا مانگ رہی تھی
رنگ رہی تھی کیوں اُجلا دو شالا اپنا کیسر میں
بٹر بٹر کیوں چاند کی جانب دیکھ رہی تھی
تکیہ اپنی چھاتی پر وہ کیوں رکھتی تھی
الگ وہ پتوں کی اک سیج بچھاتی کیوں تھی
سیج پہ لیٹی کہنی کے بل
اپنے آپ سے کیوں وہ باتیں کرتی تھی
اور پھر باتوں باتوں میں
وہ برہم کیوں ہو جاتی تھی
سب کچھ ہوتے چاہتی کیا تھی
جھلمل کپڑوں ،جگمگ زیوروں والی
اک درویش کی قبر کے اوپر
دئیے جلانے جاتی کیوں تھی؟

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *