وفا کا بوجھ ہے سر پر، مگر اُس کا یہ کہنا ہے

وفا کا بوجھ ہے سر پر، مگر اُس کا یہ کہنا ہے

کہ یہ پتھر پگھل جانے تک اُس کو زندہ رہنا ہے

وہ پربت کا اِک ایسا پیڑ ہے جس نے زمستاں میں

بدن کے ڈھانپنے کو برف کا ملبوس پہنا ہے

وہ اک سایا جو تحفے میں دیا تھا اُس کو خوابوں نے

وہی اب  اُس کا آنچل ہے وہی اب اُس کا گہنا ہے

لکھا تھا ریت پر اک دوسرے کا نام کیوں ہم نے

نتیجے میں جو صدمہ ہے وہ ہم دونوں کو سہنا ہے

ملیں گے سب یہاں جھوٹی خوشی پہنے ہوئے، ورنہ

قریب آکر جسے دیکھو،وہ اندر سے برہنہ ہے

قتیلؔ ایسی بھی اک عورت ہے اس رشتوں کی بستی میں

کہ جو ماں ہے نہ بیٹی ہے یہ بیوی ہے نہ بہنا ہے

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *