ہواؤں کی زبانی سُن لیا ہوگا ستاروں نے

ہواؤں کی زبانی سُن لیا ہوگا ستاروں نے

سندیسہ جو تجھے بھیجا ترےفرقت کے ماروں نے

وہ آنکھیں جو وضاحت کے سبھی انداز رکھتی تھیں

یہ کیا ابہام پیدا کر دیا ان کے اشاروں نے

کہااِک تجربے نے، دیکھ یہ ہوتی ہے مجبوری

گلے سے پتھروں کو جب لگایا آبشاروں نے

پہننے کو دیا آخر لبادہ خشک پتوں کا

خزاں کو ایک سوتیلی بہن سمجھا بہاروں نے

نظر آیا ہر اِک تصویر میں وہ آشنا چہرہ

رُلا ڈالا مصّور ہم کو تیرے شاہکاروں نے

خُدا جس کی زُباں سے بولتا تھا، وہ چڑھا سُولی

یہ نظارہ خود اپنی آنکھ سے دیکھا ہزاروں نے

وہ دیتا ہے قتیلؔ اور بے خوشامد مجھ کو دیتا ہے

خدا میرا نہیں دیکھا ترے پروردگاروں نے

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *