محبت ہو رہی ہے تازہ دم آہستہ آہستہ

محبت ہو رہی ہے تازہ دم آہستہ آہستہ

محبت ہو رہی ہے تازہ دم آہستہ آہستہ

بڑھائیں آپ بھی آگے قدم آہستہ آہستہ

تھکے پاؤں بھی ہم تیرے شبستاں کے مسافر ہیں

پہنچ ہی جائیں گے منزل پہ ہم آہستہ آہستہ

ترا ملنا تو کیا، پیغام ہی نے کر دیا ثابت

خوشی آئے تو مٹ جاتے ہیں غم آہستہ آہستہ

خود اُن کو ہم نے اپنے کعبہ ِ دل میں بسایا تھا

اب اس کعبے سے نکلیں گے صنم آہستہ آہستہ

ابھی تو وہ ہمارے شہرَ دل کے خاص مہماں ہیں

کُھلے گا حُسن والوں کا بھرم آہستہ آہستہ

بہت کم آس رکھنی چاہیے شادابیِ دل کی

برستا ہے یہاں ابرِ کرم آہستہ آہستہ

قتیلؔ انجام ہوتا کاش اپنا عاشقوں جیسا

کہ دم دیتے کسی زانو پہ ہم آہستہ آہستہ

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *