غبار بیٹھ گیا

غبار بیٹھ گیا

اپنے ماضی کے ناراض لمحات سے

یہ مری آج کی گفتگو—–

دل پہ رکھی ہوئی اک گراں بار سل توڑ کر

اور بھی کچھ مجھے منفعل کر گئی

وہ جو کچھ روح میں ہلکے ہلکے سے گرداب تھے

اُن کو بھی وہ مرے غم کے تالاب میں منتقل کر گئی

اور پھر اتنے ان دیکھے آنسو بہائے مری آنکھ سے

تر بہ تر دامنِ جان و دل کر گئی

لیکن اتنا ہوا

شدتِ درد کو

آج کی گفتگو معتدل کر گئی

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *