سراپا غم ہیں اور وہ گدگدانا چاہتا ہے

سراپا غم ہیں اور وہ گدگدانا چاہتا ہے

زبردستی کوئی ہم کو ہنسانا چاہتا ہے

وہ رہبر،بھائی ہے جو ایک بحری جانور کا

ہماری لاش پر آنسو بہانا چاہتا ہے

کیا ہے جس نے پتھراو خدا کا نام لے کر

وہ دُنیا میں کوئی نیکی کمانا چاہتا ہے

بہت زوروں پہ ہے دونوں طرف شوقِ شہادت

جسے دیکھو وہی جنت میں جانا چاہتا ہے

کہو سب شہر والوں سے کہ اُس کے ساتھ ہو لیں

قتیلؔ انسانیت کا گیت گانا چاہتا ہے

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *