شناخت

شناخت

میں نے اک شعر سنا

روح مری جھوم گئی

دل میں کھنک پیدا ہوئی

سوچ نے انگڑائی لی

میں نے اس شعر کے خالق سے کہا:

اپنی تخلیق مرے سایہ تحسین ہُنر تک لے آ

تاکہ میں بھی تری اس پرورش لوح و قلم کے انداز

غور سے دیکھ سکوں

دیکھ کے اوروں سے کہوں

آج میں نے بھی وہ آواز سنی ہے جس میں

اک چٹکتے ہوئے غنچے کی ادا شامل ہے

اک چہکتے ہوئے پنچھی کی صدا شامل ہے

اک امڈتے ہوئے بادل کی دعا شامل ہے

اور اس شعر کے خالق نے کہا”­ـــــــــ

اے مرے قدر شناس

ساری دُنیا سے الگ یہ تری تحسین ہنر!

تو کوئی صاحب اولاد نظر آتا ہے

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *