آنسو آنسوہرقطرہ شبنم کاہے

آنسو آنسوہرقطرہ شبنم کاہے

یہ منظر،یہ گریہ،کِس موسم کا ہے

پس منظر میں شور ہے  کُچھ زنجیروں کا

سامنے دھوکا پایل کی چھم چھم کا ہے

کچھ گونگوں نے چھیڑے گیت اُجالوں کے

اندھوں کی بستی پر سُورج چمکا ہے

میں نے دیا الزام تو چیخ اُٹھا شیطان

یار۔ یہ سارا کیا دھرا آدم کا ہے

باندھے وہ دستار جو سر بھی رکھتا ہو

قول یہ میرے اِک سچے ہمدم کا ہے

پتھر جس کو سب کہتے ہیں یار قتیلؔ

پہلا نام وہ ایک حسین صنم کا ہے

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *