گئے برس جو گیت سُنا تھا ہریالے ساون سے

گئے برس جو گیت سُنا تھا ہریالے ساون سے
وُہی گیت میں سننا چاہوں آج تیری جھانجھن سے

پورے چاند کی رات کو جب تو میرے پاس نہیں تھی
اگنی بان برستے دیکھےمیں نے کرن کرن سے

تیرے حوالے میں نہیں کرتا،اس لیے دل اپنا
تُجھے کھلونے توڑنے کی عادت سی ہے بچپن سے

یہ سب جادو ہے البیلی تیرے سانولے پن کا
آتی ہے چندن کی خوشبو تیرے مست بدن سے

کاہے چھپ چھپ کر بیٹھے تو میری کویتاؤں میں
وہ سجنی کیا سجنی،جس کو آئے لاج سجن سے

ایسی بات نہ اب چھیڑوں گاجو ایسی ویسی ہو
پہلے ہی میں تجھے منا کر لایا لاکھ جتن سے

لاکھ قتیلؔ کہے جاؤ تم اِک سچے پریمی ہو
آدمی تو پہچانا جائے اپنے چال چلن سے

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *