عصبیت

عصبیت

بکھری پڑی تھیں زمین پر کچھ آوازیں

میری سماعت نے جن کو سمیٹا

اُن میں اِک آواز تھی ایسے کاہن کی

جو تمکنت سے خلا میں تھا لیٹا

میں کون ہوں کیا ہوں؟پوچھا نہ یہ اُس نے

مجھ کو بس اِک رٹ میں اُس نے لپیٹا

تجھ میں رواں ہے لہو کس قبیلے کا

تو جس کا بیٹا ہے وہ کس کا بیٹا؟

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *