روشن وہ مرا گوشہ تنہائی تو کر جائے

روشن وہ مرا گوشہ تنہائی تو کر جائے
یادوں میں سہی، انجمن آرائی تو کر جائے

یہ میری ضمانت ہے کہ پائے گا وہ شہرت
تھوڑی سی وہ پہلے مری رسوائی تو کر جائے

کر دوں میں اُسے عقل کے مفہوم سے واقف
کچھ دن کے لیے وہ مجھے سودائی تو کر جائے

سب کہتے رہیں میں اُسے قاتل نہ کہوں گا
لیکن وہ کوئی کارِ مسیحائی تو کر جائے

میں دیکھ سکوں چہروں کے پیچھے بھی ہے کیا کچھ
اتنی سی عطا وہ مجھے بینائی تو کر جائے

میں کر تو سکوں جرمِ محبت کی وضاحت
پھر جو وہ سزا دے، مری شنوائی تو کر جائے

ہے فرض قتیل اُس پہ مرا جان چھڑکنا
پر وہ مری کُچھ حوصلہ افزائی تو کر جائے

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *