زخموں کو گلاب لکھ رہے ہیں

زخموں کو گلاب لکھ رہے ہیں

جیسے کوئی خواب لکھ رہے ہیں

پانی کو بنا کے روشنائی

شُعلوں کا جواب لکھ رہے ہیں

ہم اپنی خوشی سے اپنے تن پر

موسم کا عذاب لکھ رہے ہیں

وہ سامنے رکھ کے چکنا کاغذ

بارش کا حساب لکھ رہے ہیں

پڑھتے ہیں قتیلؔ ہم تو  چہرے

اور آپ کتاب لکھ رہے ہیں

Read in Roman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *