Monthly Archives: November 2016

جب کسی جام کو ہونٹوں سے لگایا میں نے

جب کسی جام کو ہونٹوں سے لگایا میں نے
رقص کرتا ہوا دیکھا ترا سایا میں نے

مجھ سے مت پوچھ مرے محتسب شہر سے پوچھ
کیوں تیری آنکھ کو پیمانہ بنایا میں نے ؟

لوگ کہتے ہیں قصیدہ وہ ترے حسن کا تھا
عام سا گیت جو محفل میں سنایا میں نے

میکدہ بند تھا لیکن جونہی گرجا بادل
اپنی توبہ کو چٹختا ہوا پایا میں نے

شعر و نغمات کا رشتہ کبھی ٹوٹا نہ قتیل
جب غزل بن کے وہ آیا اُسے گایا میں نے . . . !

Read in Roman

دل لگا بیٹھا ہوں لاہور کے ہنگاموں سے

دل لگا بیٹھا ہوں لاہور کے ہنگاموں سے
پیار ہے پھر بھی ہری پور، تری شاموں سے

کبھی آندھی، کبھی شُعلہ، کبھی نغمہ، کبھی رنگ
اپنا ماضی مجھے یاد آئے کئی ناموں سے

ایک وہ دن کہ بناں دید تڑپ جاتے تھے
ایک یہ دن کہ بہل جاتے ہیں پیغاموں سے

جب مرے ہاتھ پہ کانٹوں نے دیا تھا بوسہ
وہ مرا پہلا تعارف تھا گُل انداموں سے

جان و دل دے کے محّبت کے خریدار بنے
یہ کھری چیز تو مِلتی ہے کھرے داموں سے

چور بازار میں بِکنے نہ پُہنچ جائے کہیں
جِنسِ ایماں کو نکلوائیے گوداموں سے

پیروی حضرتِ غالبؔ کی ہوئی نصف قتیل
مئے تو ملتی نہیں رغبت ہے فقط آموں سے

Read in Roman

معجزہ

معجزہ
بشر کے رُوپ میں اِک دلربا طلِسم بنے
شفق میں دُھوپ ملائیں تو اُس کا جسم بنے
وہ معجزات کی حد تک پہنچ گیا ہے قتیلؔ
حروف کوئی بھی لکھوں اُسی کا اِسم بنے

Read in Roman

وہ ساون جس میں زلفوں کی گھٹا چھائی نہیں ہوتی

وہ ساون جس میں زلفوں کی گھٹا چھائی نہیں ہوتی
جو برسے بھی تو سیراب اپنی تنہائی نہیں ہوتی

جنابِ عشق کرتے ہیں کرم کُچھ خاص لوگوں پر
ہر انسان کے مقدر میں تو رُسوائی نہیں ہوتی

سمندر پر سکوں ہے اس لیے گہرا بھی ہے ورنہ
مچلتی ندیوں میں کوئی گہرائی نہیں ہوتی

یہ واعظ ہے ، نہیں تقریر میں رکھتا جواب اپنا
مگر اس شخص کی باتوں میں سچائی نہیں ہوتی

جہاں ساقی کی ایما پر کوئی کم ظرف آ بیٹھے
وہاں خوش ذوق رندوں کی پزیرائی نہیں ہوتی

کبھی چہرے بدل کر بھی یہاں کچھ لوگ آتے ہیں
کبھی کُچھ دیکھتی آنکھوں میں بینائی نہیں ہوتی

قتیلؔ اکثر یہ دیکھا ہے کسی مفلس کے آنگن میں
برات آئے تو اس کے ساتھ شہنائی نہیں ہوتی

قتیلؔ اُس شخص کا کیا واسطہ میرے قبیلے سے!
وفا کے جُرم میں جس نے سزا پائی نہیں ہوتی

Read in Roman

ہوا کی لہر کوئی چھوکے میرے یار سے آئی

ہوا کی لہر کوئی چھوکے میرے یار سے آئی
کوئی تازہ خبر یوں بھی سمندر پار سے آئی

لبوں سے کم اور آنکھوں سے بہت کرتا ہے وہ باتیں
بلاغت اس میں یہ پابندیِ اظہار سے آئی

وہ اس کی گفتگو، کلیاں چٹکنے کی صدا جیسے
یہ نرمی اس کے لہجے میں ہمارے پیار سے آئی

کشش رکھتا نہیں اب پھول میرے واسطے کوئی
کہ مجھ تک ہر مہک اُس زلفِ خوشبودار سے آئی

یہاں ہے جو بھی یوسف،خود زلیخاؤں کا گاہک ہے
روایت یہ نئی کیا جانے کس بازار سے آئی

وہ اک مغرور سی لڑکی،خوشی جس کا تخلص ہے
مرے پاس آگئی لیکن بڑے اصرار سے آئی

اندھیروں نے قتیل ؔاکثراُسی دیوار سے جھانکا
اُتر کر دھوپ میرے گھر میں جس دیوار سے آئی

Read in Roman

اقراء

اِقراء

پیمبر سے کہا جبریل نے:
اِقراء
پیمبر نے کہا:
میں پرھ نہیں سکتا
مگر اُس لمحہِ نورد تجلّی کا نتیجہ تھا
کہ اِک اُمّی وہ عالم بن گیا
روئے زمیں پر جس سے بڑھ کر
کوئی بھی علم و بصیرت کا مالک نہ تھا
یہیں تک ختم ہوجاتا نہیں یہ سلسہ علم و بصیرت کا
پیمبر کے غلاموں تک نے پائی روشنی
علم و بصیرت کی
اُجالا ہو گیا مشرق سے مغرب تک
کہا میرے زمانے سے گزرتے وقت نے
اِقراء
کہا میرے زمانے نے
مجھے پڑھنا تو آتا ہے
مگر میں بھول جانا چاہتا ہوں سارے لفظوں کو
اور ان لفظوں میں پوشیدہ ہر اِک علم و بصیرت کو
کتابیں غرق ِدریا کرکے اطمینان و راحت چاہتا ہوں میں
کہ اب ایسا ہی کرنا چاہیے مجھ کو
گزرتے وقت نے پوچھا بھلا کیوں؟
کہا ــــــ علم و بصیرت اور کتب خانے مرے کس کام کے
جب ہر چوراہے پر
بلند آواز لاوڈ اسپیکروں سے وہ سبھی کچھ نشر ہوتا ہے
نفی ہوتی چلی جاتی ہے جس سے دم بدم عِلم و بصیرت کی
پھر اس کے ساتھ سچّی بات تو یہ ہے
نہ میں کوئی پیمبر ہوں نہ تو کوئی فرشتہ ہے
میں تیری بات کیوں مانوں ـــــ؟

Read in Roman

کچھ راحتوں کی کھوج میں آئی تھی زندگی

کچھ راحتوں کی کھوج میں آئی تھی زندگی
دیکھا تو اِک لحد میں سمائی تھی زندگی

کیا کیا نہ ایک شخص نے رکھی سنبھال کر
معلوم اب ہوا کہ پرائی تھی زندگی

ہوجائے ریزہ ریزہ لگے جب ذرا سی ٹھیس
کیا سوچ کر خُدا نے بنائی تھی زندگی

تھا دشمنوں کے واسطے عبرت کا یہ مقام
کاندھے پہ دوستوں نے اُٹھائی تھی زندگی

واپس گئی عدم کی طرف خاک اوڑھ کر
سانسیں پہن کے دہر میں آئی تھی زندگی

اُڑتا ہوا وہ ایک پرندہ ہے اب کہاں
اپنے پروں پہ جس نے سجائی تھی زندگی

دیکھا قمار خانہ ِ ہستی میں جب قتیلؔ
داؤ پہ ہر بشر نے لگائی تھی زندگی

(ڈاکٹر یوسف کی رحلت پر)

Read in Roman

آخر وہ میرے قد کی بھی حد سے گزر گیا

آخر وہ میرے قد کی بھی حد سے گزر گیا
کل شام میں تو اپنے ہی سائے سے ڈر گیا

مٹھی میں بند کیا ہوا بچوں کے کھیل میں
جگنو کے ساتھ اس کا اجالا بھی مر گیا

کچھ ہی برس کے بعد تو اس سے ملا تھا میں
دیکھا جو میرا عکس تو آئینہ ڈر گیا

ایسا نہیں کہ غم نے بڑھا لی ہو اپنی عمر
موسم خوشی کا وقت سے پہلے گزر گیا

لکھنا مرے مزار کے کتبے پہ یہ حروف
“مرحوم زندگی کی حراست میں مر گیا”

Read in Roman

گریہ مسّرت

گریہ مسّرت

احباب سے چُھپ چُھپ کے بھی رویا ہوں میں اکثر
پر آج بھری بزم میں
رونے کا مزا اور ہی کچھ ہے

احباب کو حیرت، کہ مرے قہقہ بردار لبوں پر
کیوں لے گئیں سبقت مری بھیگی ہوئی پلکیں
مرے تپتے ہوئے آنسو

شاید مرے احباب کو معلوم نہیں ہے
اظہارِ مسرت کبھی ہوتا ہے جو رو کر
سو بار کا ہنسنا بھی اُسے چھُو نہیں سکتا
آنسو ہیں وہ موتی
پلکوں کے صدف سے جو نکلتے ہیں اُسی دم
جب دل کے سمندر میں
خوشی کا کوئی طوفان بپا ہو
طوفان سما سکتا نہیں صرف ہنسی میں
آنسو ہی اُسے اپنی تراوت میں سمیٹیں تو سمیٹیں
آنسو کہ جسامت میں ہیں قطرے سے بھی کچھ کم
اظہارِ مسرت میں سمندر سے بڑے ہیں

بے حِس مرے احباب ہیں
کاش اُن کو بتائے کوئی ہمدم
حاصل جو خوشی آج ہوئی ہے مرے دل کو
شاید وہ تبسّم میں سمیٹی ہی نہ جاتی
ہونٹوں پہ تبسّم بھی بُہت خوب ہے لیکن
آنکھوں میں ترشح کی فضا اور ہی کچھ ہے
اس بزم میں رونے کا مزا اور ہی کچھ ہے

Read in Roman