Monthly Archives: June 2016

شناخت

شناخت

میں نے اک شعر سنا

روح مری جھوم گئی

دل میں کھنک پیدا ہوئی

سوچ نے انگڑائی لی

میں نے اس شعر کے خالق سے کہا:

اپنی تخلیق مرے سایہ تحسین ہُنر تک لے آ

تاکہ میں بھی تری اس پرورش لوح و قلم کے انداز

غور سے دیکھ سکوں

دیکھ کے اوروں سے کہوں

آج میں نے بھی وہ آواز سنی ہے جس میں

اک چٹکتے ہوئے غنچے کی ادا شامل ہے

اک چہکتے ہوئے پنچھی کی صدا شامل ہے

اک امڈتے ہوئے بادل کی دعا شامل ہے

اور اس شعر کے خالق نے کہا”­ـــــــــ

اے مرے قدر شناس

ساری دُنیا سے الگ یہ تری تحسین ہنر!

تو کوئی صاحب اولاد نظر آتا ہے

Read in Roman

جو خود اس کا رستہ روکیں اُن کے آگے جھکتی ہے

جو خود اس کا رستہ روکیں اُن کے آگے جھکتی ہے
ورنہ ہر دروازے پر تقدیر بھلا کب رکتی ہے

میری گلی کے لُٹنے والے شور مچاتے ہیں لیکن
تب امداد پُہنچتی ہے جب بربادی ہو چکتی ہے

ساون تو ہے ایک مگر کیا کہیے اس دو رنگی کو
باہر پڑے پھوار تو اندر جان ہماری پُھکتی ہے

کبھی نہ دیکھی کسی نے اب تک نرمی بانجھ درختوں میں
جس ڈالی پر پھل آ جائے صرف وہ ڈالی جھکتی ہے

ایک ہی وہ بازار تھا جس میں یوسف بیچا گیا قتیلؔ
اپنے ہر بازار میں اب انسان کی قیمت چُکتی ہے

Read in Roman

آنسو آنسوہرقطرہ شبنم کاہے

آنسو آنسوہرقطرہ شبنم کاہے

یہ منظر،یہ گریہ،کِس موسم کا ہے

پس منظر میں شور ہے  کُچھ زنجیروں کا

سامنے دھوکا پایل کی چھم چھم کا ہے

کچھ گونگوں نے چھیڑے گیت اُجالوں کے

اندھوں کی بستی پر سُورج چمکا ہے

میں نے دیا الزام تو چیخ اُٹھا شیطان

یار۔ یہ سارا کیا دھرا آدم کا ہے

باندھے وہ دستار جو سر بھی رکھتا ہو

قول یہ میرے اِک سچے ہمدم کا ہے

پتھر جس کو سب کہتے ہیں یار قتیلؔ

پہلا نام وہ ایک حسین صنم کا ہے

Read in Roman

گئے برس جو گیت سُنا تھا ہریالے ساون سے

گئے برس جو گیت سُنا تھا ہریالے ساون سے
وُہی گیت میں سننا چاہوں آج تیری جھانجھن سے

پورے چاند کی رات کو جب تو میرے پاس نہیں تھی
اگنی بان برستے دیکھےمیں نے کرن کرن سے

تیرے حوالے میں نہیں کرتا،اس لیے دل اپنا
تُجھے کھلونے توڑنے کی عادت سی ہے بچپن سے

یہ سب جادو ہے البیلی تیرے سانولے پن کا
آتی ہے چندن کی خوشبو تیرے مست بدن سے

کاہے چھپ چھپ کر بیٹھے تو میری کویتاؤں میں
وہ سجنی کیا سجنی،جس کو آئے لاج سجن سے

ایسی بات نہ اب چھیڑوں گاجو ایسی ویسی ہو
پہلے ہی میں تجھے منا کر لایا لاکھ جتن سے

لاکھ قتیلؔ کہے جاؤ تم اِک سچے پریمی ہو
آدمی تو پہچانا جائے اپنے چال چلن سے

Read in Roman

عصبیت

عصبیت

بکھری پڑی تھیں زمین پر کچھ آوازیں

میری سماعت نے جن کو سمیٹا

اُن میں اِک آواز تھی ایسے کاہن کی

جو تمکنت سے خلا میں تھا لیٹا

میں کون ہوں کیا ہوں؟پوچھا نہ یہ اُس نے

مجھ کو بس اِک رٹ میں اُس نے لپیٹا

تجھ میں رواں ہے لہو کس قبیلے کا

تو جس کا بیٹا ہے وہ کس کا بیٹا؟

Read in Roman

روشن وہ مرا گوشہ تنہائی تو کر جائے

روشن وہ مرا گوشہ تنہائی تو کر جائے
یادوں میں سہی، انجمن آرائی تو کر جائے

یہ میری ضمانت ہے کہ پائے گا وہ شہرت
تھوڑی سی وہ پہلے مری رسوائی تو کر جائے

کر دوں میں اُسے عقل کے مفہوم سے واقف
کچھ دن کے لیے وہ مجھے سودائی تو کر جائے

سب کہتے رہیں میں اُسے قاتل نہ کہوں گا
لیکن وہ کوئی کارِ مسیحائی تو کر جائے

میں دیکھ سکوں چہروں کے پیچھے بھی ہے کیا کچھ
اتنی سی عطا وہ مجھے بینائی تو کر جائے

میں کر تو سکوں جرمِ محبت کی وضاحت
پھر جو وہ سزا دے، مری شنوائی تو کر جائے

ہے فرض قتیل اُس پہ مرا جان چھڑکنا
پر وہ مری کُچھ حوصلہ افزائی تو کر جائے

Read in Roman

دنیا مری آباد ہے جس راحتِ جاں سے

دنیا مری آباد ہے جس راحتِ جاں سے

دیتا ہوں دُعائیں اُسے دھڑکن کی زُباں سے

حیرت سے وفائیں مرا مُنہ دیکھ رہِی ہیں

شیشے کا خریدار ہوں پتھر کی دُکاں سے

ایسا وہ کہاں جیسا غزل میں نظر آئے

سب حُسن ہے اُس کا مرے اندازِ بیاں سے

تم ہاتھوں کو بیکار کی زحمت سے بچا لو

دستک کا جواب آتا نہیں خالی مکاں سے

رکھے جو قتیل اپنے سمندر کو بچا کر

شکوہ ہے مری پیاس کو اُس پیر مغاں سے

Read in Roman

بانجھ موسموں کی راگنی

بانجھ موسموں کی راگنی

بسنت بھی نہیں کہ حرف رنگ لوں

پیلے پیلے رنگ میں

بہار بھی نہیں کہ پھول ٹانک لوں

کسی نئی اُمنگ میں

خزاں بھی وہ نہیں کہ خشک پتیاں

اوس میں بھگو سکوں

سماں بھی وہ نہیں کہ جس کی تلخیاں

سُرور میں ڈبو سکوں

گنگ اپنے ساز کی

ایک ایک جھانجھ ہے

کس طرح بشارتوں کا ہو جنم

جب دُلہن ہی موسموں کی بانجھ ہے

Read in Roman

زخموں کو گلاب لکھ رہے ہیں

زخموں کو گلاب لکھ رہے ہیں

جیسے کوئی خواب لکھ رہے ہیں

پانی کو بنا کے روشنائی

شُعلوں کا جواب لکھ رہے ہیں

ہم اپنی خوشی سے اپنے تن پر

موسم کا عذاب لکھ رہے ہیں

وہ سامنے رکھ کے چکنا کاغذ

بارش کا حساب لکھ رہے ہیں

پڑھتے ہیں قتیلؔ ہم تو  چہرے

اور آپ کتاب لکھ رہے ہیں

Read in Roman