Monthly Archives: June 2016

کوکھ جلی

کوکھ جلی
(عاصیؔ رضوی مرحوم کی مختصر پنجابی نظم کا پھیلاؤ)

گاؤں سے باہر،
ٹیلے والی، اک درویش کی قبر کے اوپر
آدھی رات کو
جھلمل کپڑے، جگمگ زیور پہنے ہوئے
وہ کون تھی دیا جلانے والی
سب کچھ ہوتے جانے وہ کیا مانگ رہی تھی
رنگ رہی تھی کیوں اُجلا دو شالا اپنا کیسر میں
بٹر بٹر کیوں چاند کی جانب دیکھ رہی تھی
تکیہ اپنی چھاتی پر وہ کیوں رکھتی تھی
الگ وہ پتوں کی اک سیج بچھاتی کیوں تھی
سیج پہ لیٹی کہنی کے بل
اپنے آپ سے کیوں وہ باتیں کرتی تھی
اور پھر باتوں باتوں میں
وہ برہم کیوں ہو جاتی تھی
سب کچھ ہوتے چاہتی کیا تھی
جھلمل کپڑوں ،جگمگ زیوروں والی
اک درویش کی قبر کے اوپر
دئیے جلانے جاتی کیوں تھی؟

Read in Roman

وفا کا بوجھ ہے سر پر، مگر اُس کا یہ کہنا ہے

وفا کا بوجھ ہے سر پر، مگر اُس کا یہ کہنا ہے

کہ یہ پتھر پگھل جانے تک اُس کو زندہ رہنا ہے

وہ پربت کا اِک ایسا پیڑ ہے جس نے زمستاں میں

بدن کے ڈھانپنے کو برف کا ملبوس پہنا ہے

وہ اک سایا جو تحفے میں دیا تھا اُس کو خوابوں نے

وہی اب  اُس کا آنچل ہے وہی اب اُس کا گہنا ہے

لکھا تھا ریت پر اک دوسرے کا نام کیوں ہم نے

نتیجے میں جو صدمہ ہے وہ ہم دونوں کو سہنا ہے

ملیں گے سب یہاں جھوٹی خوشی پہنے ہوئے، ورنہ

قریب آکر جسے دیکھو،وہ اندر سے برہنہ ہے

قتیلؔ ایسی بھی اک عورت ہے اس رشتوں کی بستی میں

کہ جو ماں ہے نہ بیٹی ہے یہ بیوی ہے نہ بہنا ہے

Read in Roman

ہواؤں کی زبانی سُن لیا ہوگا ستاروں نے

ہواؤں کی زبانی سُن لیا ہوگا ستاروں نے

سندیسہ جو تجھے بھیجا ترےفرقت کے ماروں نے

وہ آنکھیں جو وضاحت کے سبھی انداز رکھتی تھیں

یہ کیا ابہام پیدا کر دیا ان کے اشاروں نے

کہااِک تجربے نے، دیکھ یہ ہوتی ہے مجبوری

گلے سے پتھروں کو جب لگایا آبشاروں نے

پہننے کو دیا آخر لبادہ خشک پتوں کا

خزاں کو ایک سوتیلی بہن سمجھا بہاروں نے

نظر آیا ہر اِک تصویر میں وہ آشنا چہرہ

رُلا ڈالا مصّور ہم کو تیرے شاہکاروں نے

خُدا جس کی زُباں سے بولتا تھا، وہ چڑھا سُولی

یہ نظارہ خود اپنی آنکھ سے دیکھا ہزاروں نے

وہ دیتا ہے قتیلؔ اور بے خوشامد مجھ کو دیتا ہے

خدا میرا نہیں دیکھا ترے پروردگاروں نے

Read in Roman

محبت ہو رہی ہے تازہ دم آہستہ آہستہ

محبت ہو رہی ہے تازہ دم آہستہ آہستہ

محبت ہو رہی ہے تازہ دم آہستہ آہستہ

بڑھائیں آپ بھی آگے قدم آہستہ آہستہ

تھکے پاؤں بھی ہم تیرے شبستاں کے مسافر ہیں

پہنچ ہی جائیں گے منزل پہ ہم آہستہ آہستہ

ترا ملنا تو کیا، پیغام ہی نے کر دیا ثابت

خوشی آئے تو مٹ جاتے ہیں غم آہستہ آہستہ

خود اُن کو ہم نے اپنے کعبہ ِ دل میں بسایا تھا

اب اس کعبے سے نکلیں گے صنم آہستہ آہستہ

ابھی تو وہ ہمارے شہرَ دل کے خاص مہماں ہیں

کُھلے گا حُسن والوں کا بھرم آہستہ آہستہ

بہت کم آس رکھنی چاہیے شادابیِ دل کی

برستا ہے یہاں ابرِ کرم آہستہ آہستہ

قتیلؔ انجام ہوتا کاش اپنا عاشقوں جیسا

کہ دم دیتے کسی زانو پہ ہم آہستہ آہستہ

Read in Roman

غبار بیٹھ گیا

غبار بیٹھ گیا

اپنے ماضی کے ناراض لمحات سے

یہ مری آج کی گفتگو—–

دل پہ رکھی ہوئی اک گراں بار سل توڑ کر

اور بھی کچھ مجھے منفعل کر گئی

وہ جو کچھ روح میں ہلکے ہلکے سے گرداب تھے

اُن کو بھی وہ مرے غم کے تالاب میں منتقل کر گئی

اور پھر اتنے ان دیکھے آنسو بہائے مری آنکھ سے

تر بہ تر دامنِ جان و دل کر گئی

لیکن اتنا ہوا

شدتِ درد کو

آج کی گفتگو معتدل کر گئی

Read in Roman

یارو کہاں تک اورمحبت نبھاؤں میں

یارو کہاں تک اورمحبت نبھاؤں میں

دو مجھ کو بددعا کہ اسے بھول جاؤں میں

دل تو جلا گیا ہے وہ شعلہ سا آدمی

اب کس کو چھو کے ہاتھ بھی اپنا  جلاؤں میں

سنتا ہوں اب کسی سے وفا کر رہا ہے وہ

اے زندگی خوشی سے کہیں مر نہ جاؤں میں

اک شب بھی وصل کی نہ مرا ساتھ دے سکی

عہد فراق آ کہ تجھے آزماؤں میں

بدنام میرے قتل سے تنہا تو ہی نہ ہو

لا اپنی مہر بھی سر محضر لگاؤں میں

اُترا ہے بام سے کوئی الہام کی طرح

جی چاہتا ہے ساری زمین کو سجاؤں میں

اُس جیسا نام رکھ کے اگر آئے موت بھی

ہنس کر اُسے قتیل گلے  سے لگاؤں میں

Read in Roman

سینے میں حسرتوں کی جلن چاہتا نہیں

سینے میں حسرتوں کی جلن چاہتا نہیں

غم اب کوئی نیا مرا من چاہتا نہیں

وہ میرے شہر دل میں اگر آ بسا تو کیا

وہ کون ہے جو اپنا وطن چاہتا نہیں

انسان تھا وہ غموں نے فرشتہ بنا دیا

اب وہ تعلقاتِ بدن چاہتا نہیں

کہتے ہیں اُس کے حال پہ روتے ہیں دیوتا

جس سانوری کو اُس کا سجن چاہتا نہیں

ہونا ہو جس کو دفن خود اپنے ہی صبر میں

وہ چہرا آنسوؤں کا کفن چاہتا نہیں

اُس کو نہ پا کے جو اُسے رُسوا کریں قتیلؔ

میں ایسے ظالموں کا چلن چاہتا نہیں

Read in Roman

ایفروایشیائی نغمہ

ایفروایشیائی نغمہ

زنجیریں جب ٹوٹیں گی جھنکا ر تو ہوگی

صدیوں کی سوئی دُنیا بیدار تو ہوگی

پھیلے ہوئے اس دھرتی پر ہیں لوگ جہاں تک

پہنچے گی زنجیروں کی جھنکار وہاں تک

دُنیا جاگی تو کوئی محکوم نہ ہوگا

کوئی وطن آزادی سے محروم نہ ہوگا

چکنا چور غلامی کی دیوار تو ہوگی

صدیوں کی سوئی دُنیا بیدار تو ہوگی

دُنیا بھر کے انسانوں کا یہی ہے کہنا

سب کا حق ہے امن اور چین سے زندہ رہنا

پاس نہ آنے دو نفرت کے طوفانوں کو

پیار کی آج ضرورت ہے سب انسانوں کو

پیار کی مٹی سے پیدا مہکار تو ہوگی

صدیوں کی سوئی دُنیا بیدار تو ہوگی

امن کے بادل اک دن ہر سو چھائے ملیں گے

دھوپ کے بدلے ٹھنڈے ٹھنڈے سائے ملیں گے

پورب پچھم ہوگی آزادی کی رِم جھم

روکے گی جو قوم اسے کہلائے گی مجرم

پت جھڑ میں بھی یہ دھرتی گلزار تو ہوگی

صدیوں کی سوئی دُنیا بیدار تو ہوگی

Read in Roman

وہ کھل کر اب کوئی جلوہ دکھانا چاہتا ہے

وہ کھل کر اب کوئی جلوہ دکھانا چاہتا ہے

وہ کہتا ہے “اُسے سارا زمانہ چاہتا ہے”

خُدا شاہد بُری نیت نہیں رکھتا وہ قاتل

تماشا رقصِ بسمل کا دِکھانا چاہتا ہے

وہ زخم آئیں گے جن کے ساتھ اِک مرہم بھی ہو گا

نئے تیروں سے وہ ترکش سجانا چاہتا ہے

یہ کہہ کر اِک نیا پنجرہ بنا دیتا ہے صیاد

پرندہ خود، قفس کا آب و دانہ چاہتا ہے

قتیل اُس کو ہماری بے گُناہی سے غرض کیا

سزا دینے کا وہ کوئی بہانہ چاہتا ہے

Read in Roman

سراپا غم ہیں اور وہ گدگدانا چاہتا ہے

سراپا غم ہیں اور وہ گدگدانا چاہتا ہے

زبردستی کوئی ہم کو ہنسانا چاہتا ہے

وہ رہبر،بھائی ہے جو ایک بحری جانور کا

ہماری لاش پر آنسو بہانا چاہتا ہے

کیا ہے جس نے پتھراو خدا کا نام لے کر

وہ دُنیا میں کوئی نیکی کمانا چاہتا ہے

بہت زوروں پہ ہے دونوں طرف شوقِ شہادت

جسے دیکھو وہی جنت میں جانا چاہتا ہے

کہو سب شہر والوں سے کہ اُس کے ساتھ ہو لیں

قتیلؔ انسانیت کا گیت گانا چاہتا ہے

Read in Roman