Monthly Archives: June 2016

ڈرو اُس وقت سے

ڈرو اُس وقت سے

ڈرو اُس وقت سے
اے شاعرو، اے نغمہ خوانو، اے صنم سازو
اچانک جب تُمہاری سمت
کُچھ صدیوں پرانے شیش محلوں سے
سُنا سن تیر برسیں گے
بُہت چِلّاو گے تُم
اور پُکارو گے بہت باذوق دُنیا کو
مگر با ذوق دُنیا کا ہر اِک باشندہ
پہلے ہی گھائل ہو چُکا ہو گا
جو باقی لوگ ہوں گے
وہ تُمھارا ساتھ کب دیں گے
کہ وہ تو رجعتوں کی ہیروئن پینے کے عادی ہو چُکے ہوں گے
اُنھیں تو صرف وہ باتیں بھلی معلوم ہوں گی
جہالت کا اندھیرا اور بھی ان کی رگوں میں جن سے بھر جائے
وہ باتیں —-
عقل و استدلال کا اِک شائبہ جن میں نہیں ہوتا
یہ مانا تم بہت سمجھاؤ گے اُن کو
مگر کوئی نہ سمجھے گا
اور اِس دورِ سیاہی میں
جو برپا کربلا ہوگا
وہاں کوئی بھی حُر پیدا نہیں ہوگا تمھاری پاسداری کو
مِلیں گے سب تمھارے خون کے پیاسے
ڈرو اُس وقت سے
اے شاعرو، اے نغمہ خوانو، اے صنم سازو
جو ممکن ہو تو بڑھ کر روک لو
اُس آنے والے وقت کا رستہ

Read in Roman

صحراوں میں اک چھاؤں سی بکھراتی رہے گی

صحراوں میں اک چھاؤں سی بکھراتی رہے گی
رُت کوئی بھی ہو، زُلف وہ لہراتی رہے گی

تم چھین تو لو گے مرے ساون کی گھٹائیں
آواز پپیہے کی مگر آتی رہے گی
*پپیہے = کویل کی طرح کا مگر اس سے چھوٹا ایک خوش آواز پرندہ، اسے سنسکرت میں چاتک کہتے ہیں

جاتا رہا خوابوں میں خلل ڈالنے والا
اب دن میں بھی اکثر تمھیں نیند آتی رہے گی

بخشے گی نہ اس کو کوئی سورج کی عدالت
یہ رات ستاروں کی قسم کھاتی رہے گی

کچھ ضبط نہ کر پائیں گے عشّاق بھی تیرے
کُچھ صورتِ حالات بھی جذباتی رہے گی

صحرا کو نہ چھوڑے گا کبھی شہر کی خاطر
دُنیا تِرے دیوانے کو سمجھاتی رہے گی

تُجھ پر بھی قتیل آن پڑی جب کوئی اُفتاد
سب زندہ دلی یار تری جاتی رہے گی

Read in Roman

بے ذوق تھی یا حُسن سے آگاہ تھی پہلے

بے ذوق تھی یا حُسن سے آگاہ تھی پہلے
کیسی تری دُنیا مرے اللہ تھی پہلے

میں نے تو سُنا ہے کہ یہ دُنیا تری یا رب!
شاعر کے خیالوں کی گزرگاہ تھی پہلے

کرنے کو ہے انسان خلاؤں کو بھی آباد
جو آج حقیقت ہے وہ افواہ تھی پہلے

اب واعظ و ناصح جہاں کرتے ہیں عبادت
کہتے ہیں وہ اِک رند کی درگاہ تھی پہلے

چھینا ہے مِرا جام اُن آنکھوں نے وگرنہ
اس چیز سے بچنے کی کہاں راہ تھی پہلے

تھا رشک رقیبوں کو مرے حُسن نظر پر
اک حسن کی دیوی مرے ہمراہ تھی پہلے

نزدیک سے دیکھا ہے قتیلؔ اب کے گھر اپنا
جنت کی مرے دل میں بُہت چاہ تھی پہلے

Read in Roman

اک بار جو تک لے اُسے تکتا ہی چلا جائے

اک بار جو تک لے اُسے تکتا ہی چلا جائے
شعلہ سا بدن اس کا دہکتا ہی چلا جائے

کردار ادا جب میں کروں بادِ صبا کا
وہ پھول کی مانند مہکتا ہی چلا جائے

حالات کی بجلی نے کیا راکھ نشیمن
پر آس کا پنچھی کہ چہکتا ہی چلا جائے

آجائیں میسر جسے آنکھوں کے وہ ساغر
وہ رند تو پی پی کے بہکتا ہی چلا جائے

پھولوں کو توقع ہے نہ امکان ثمر کا
اک پیڑ مگر پھر بھی لہکتا ہی چلا جائے

ہم لاکھ مہذب ہوں مگر تم ہی بتاؤ
جب ضبط کا پیمانہ چھلکتا ہی چلا جائے

ہر گام پہ الزام قتیلؔ اب بھی ہیں لیکن
اُن پاوں میں بچھوا جو چھنکتا ہی چلا جائے

Read in Roman

سلسلہ خیالوں کا

سلسلہ خیالوں کا

جن کے تنکے تک مجھ کو پہچانتے ہیں
یاد مجھے وہ تیری گلیاں آج بھی ہیں
جن کو حاصل رہا سدا رتجگا کوئی
میرے ذہن میں وہ رنگ رلیاں آج بھی ہیں
آج بھی میں سوچوں تو ایسا لگتا ہے
ہونٹ تِرے مصری کی ڈلیاں آج بھی ہیں
جب میں بیتے وقت کی باتیں کرتا ہوں
کچھ مرجھائے پھول مہکنے لگتے ہیں
کہوں ترے پس منظر میں جب کوئی غزل
بہت پُرانے جام کھنکنے لگتے ہیں
اب بھی گنتا ہوں جب نام رقیبوں کے
لوگ مجھے حیرت سے تکنے لگتے ہیں
—————–
چومتا ہوں میں اُن پیروں کو سپنوں میں
جن پیروں میں روشنیوں کی جھانجھن ہے
رات کو اکثر آنکھیں ڈھانپ کے سُوتا ہوں
جگمگ جگمگ یوں بھی میرا تن من ہے
کیا لینا مجھ کو اِن چاند ستاروں سے
میرے اندر تو اِک سورج روشن ہے
——–
بھڑکاتی ہے جس کو یاد جوانی کی
دیر تلک وہ شُعلہ سرد نہیں ہوتا
موسم کیسا بھی ہو خون چہکتا ہے
عمر کوئی ہو چہرہ زرد نہیں ہوتا
یاد نہ رکھے جو اقرار وفاؤں کے
وہ سب کچھ ہوتا ہے مرد نہیں ہوتا

———

عمر کے جس رستے پر میں نے پاؤں دھرے
میرے جسم کے ساتھ چلا ہے جسم ترا
پکڑے رہا میں وقت کی اُنگلی جہاں تلک
پل پل مجھ پر چھایا رہا طِلسم ترا
رستہ روکیں جب حالات کے اندھیارے
روشنیاں دیتا ہے مجھ کو اِسم ترا

Read in Roman

لے گیا اپنی سب ریکھائیں اپنے ساتھ

لے گیا اپنی سب ریکھائیں اپنے ساتھ
دروازے پر دستک دینے والا ہاتھ

آپ سنبھل جائے گا ٹھوکر کھانے پر
دِ ل کو میں سمجھاؤں میری کیا اوقات

یاد نہ وہ آئے تو آنکھیں کیا برسیں
جب چھائے گا بادل تب ہو گی برسات

حرف لکھے تھے جتنے وہ سب پھیل گئے
کاغذ کے دشمن ہوتے ہیں گِیلے ہاتھ

مستقبل تو مستقبل ہی رہتا ہے
یوں لگتا ہے کبھی نہ بدلیں گے حالات

تھا مجھ پر بھی تنگ مِرا گھر اس پر بھی
تنہائی نے رہنا چاہا میرے ساتھ

میں نے تو دو چار الزام خریدے تھے
دِل کے شہر سے تم کیا لائے ہو سوغات

ساری رات مسلسل جاگنے والے نے
آنکھوں میں کچھ خواب سجائے پچھلی رات

یہ قصّہ اپنی تاریخ کا حصہ ہے
کھا گئے ہاتھی چند ابابیلوں سے مات

مانگے سے گر ملے قتیلؔ محبت بھی
ایک طرح سے ہوتی ہے وہ بھی خیرات

Read in Roman

گزرا ہے بیگانہ بن کر کیسا وہ

گزرا ہے بیگانہ بن کر کیسا وہ
کبھی نہیں تھا آج سے پہلے ایسا وہ

اندر اندر ٹوٹا سا اِک پیمانہ
باہر باہر لال گلابی مئے سا وہ

میں نے جھانک کے دیکھا اُس کی آنکھوں میں
وہ لگتا ہے جیسا نہیں تھا ویسا وہ

چوٹ لگی ہے شاید اُس کے بھی دل پر
آج دکھائی دیتا ہے مجھ جیسا وہ

میرا اور اصول ہے اُس کا اور قتیلؔ
پیار ہی پیار ہوں میں ، پیسہ ہی پیسہ وہ

Read in Roman

جیسا اس کے لیے سنا تھا ویسا ہے

جیسا اس کے لیے سنا تھا ویسا ہے
میں نے برسوں بعد اُسے اب دیکھاہے

ہر منظر کا ہوتا ہے اِک پس منظر
وہ لاکھوں میں ایک ہے لیکن تنہا ہے

میں دریا بن جاؤں بھی تو کیا حاصل
وہ ہے سمندر اور صدیوں کا پیاسا ہے

گیا تھا جب وہ اُس دن آگ بگولا تھا
واپس آیا ہے تو برف کا پتلا ہے

پھر ماضی کو چوما اس کے ہونٹوں نے
پھر اک لفظ مرے کانوں میں رویا ہے

میلہ لگا ہے چار طرف سنّاٹوں کا
کہیں کہیں کوئی سایا سسکی لیتا ہے

کانچ کا ہر جذبہ پیچھے ہم چھوڑ آئے
اب تو اپنا پکّی عمر کا رشتہ ہے

مجھ کو اپنے حال پہ آئے رحم قتیلؔ
میں نے اِک پنچھی کو اُڑتے دیکھا ہے

Read in Roman