All posts by admin

اک بار جو تک لے اُسے تکتا ہی چلا جائے

اک بار جو تک لے اُسے تکتا ہی چلا جائے
شعلہ سا بدن اس کا دہکتا ہی چلا جائے

کردار ادا جب میں کروں بادِ صبا کا
وہ پھول کی مانند مہکتا ہی چلا جائے

حالات کی بجلی نے کیا راکھ نشیمن
پر آس کا پنچھی کہ چہکتا ہی چلا جائے

آجائیں میسر جسے آنکھوں کے وہ ساغر
وہ رند تو پی پی کے بہکتا ہی چلا جائے

پھولوں کو توقع ہے نہ امکان ثمر کا
اک پیڑ مگر پھر بھی لہکتا ہی چلا جائے

ہم لاکھ مہذب ہوں مگر تم ہی بتاؤ
جب ضبط کا پیمانہ چھلکتا ہی چلا جائے

ہر گام پہ الزام قتیلؔ اب بھی ہیں لیکن
اُن پاوں میں بچھوا جو چھنکتا ہی چلا جائے

Read in Roman

سلسلہ خیالوں کا

سلسلہ خیالوں کا

جن کے تنکے تک مجھ کو پہچانتے ہیں
یاد مجھے وہ تیری گلیاں آج بھی ہیں
جن کو حاصل رہا سدا رتجگا کوئی
میرے ذہن میں وہ رنگ رلیاں آج بھی ہیں
آج بھی میں سوچوں تو ایسا لگتا ہے
ہونٹ تِرے مصری کی ڈلیاں آج بھی ہیں
جب میں بیتے وقت کی باتیں کرتا ہوں
کچھ مرجھائے پھول مہکنے لگتے ہیں
کہوں ترے پس منظر میں جب کوئی غزل
بہت پُرانے جام کھنکنے لگتے ہیں
اب بھی گنتا ہوں جب نام رقیبوں کے
لوگ مجھے حیرت سے تکنے لگتے ہیں
—————–
چومتا ہوں میں اُن پیروں کو سپنوں میں
جن پیروں میں روشنیوں کی جھانجھن ہے
رات کو اکثر آنکھیں ڈھانپ کے سُوتا ہوں
جگمگ جگمگ یوں بھی میرا تن من ہے
کیا لینا مجھ کو اِن چاند ستاروں سے
میرے اندر تو اِک سورج روشن ہے
——–
بھڑکاتی ہے جس کو یاد جوانی کی
دیر تلک وہ شُعلہ سرد نہیں ہوتا
موسم کیسا بھی ہو خون چہکتا ہے
عمر کوئی ہو چہرہ زرد نہیں ہوتا
یاد نہ رکھے جو اقرار وفاؤں کے
وہ سب کچھ ہوتا ہے مرد نہیں ہوتا

———

عمر کے جس رستے پر میں نے پاؤں دھرے
میرے جسم کے ساتھ چلا ہے جسم ترا
پکڑے رہا میں وقت کی اُنگلی جہاں تلک
پل پل مجھ پر چھایا رہا طِلسم ترا
رستہ روکیں جب حالات کے اندھیارے
روشنیاں دیتا ہے مجھ کو اِسم ترا

Read in Roman

لے گیا اپنی سب ریکھائیں اپنے ساتھ

لے گیا اپنی سب ریکھائیں اپنے ساتھ
دروازے پر دستک دینے والا ہاتھ

آپ سنبھل جائے گا ٹھوکر کھانے پر
دِ ل کو میں سمجھاؤں میری کیا اوقات

یاد نہ وہ آئے تو آنکھیں کیا برسیں
جب چھائے گا بادل تب ہو گی برسات

حرف لکھے تھے جتنے وہ سب پھیل گئے
کاغذ کے دشمن ہوتے ہیں گِیلے ہاتھ

مستقبل تو مستقبل ہی رہتا ہے
یوں لگتا ہے کبھی نہ بدلیں گے حالات

تھا مجھ پر بھی تنگ مِرا گھر اس پر بھی
تنہائی نے رہنا چاہا میرے ساتھ

میں نے تو دو چار الزام خریدے تھے
دِل کے شہر سے تم کیا لائے ہو سوغات

ساری رات مسلسل جاگنے والے نے
آنکھوں میں کچھ خواب سجائے پچھلی رات

یہ قصّہ اپنی تاریخ کا حصہ ہے
کھا گئے ہاتھی چند ابابیلوں سے مات

مانگے سے گر ملے قتیلؔ محبت بھی
ایک طرح سے ہوتی ہے وہ بھی خیرات

Read in Roman

گزرا ہے بیگانہ بن کر کیسا وہ

گزرا ہے بیگانہ بن کر کیسا وہ
کبھی نہیں تھا آج سے پہلے ایسا وہ

اندر اندر ٹوٹا سا اِک پیمانہ
باہر باہر لال گلابی مئے سا وہ

میں نے جھانک کے دیکھا اُس کی آنکھوں میں
وہ لگتا ہے جیسا نہیں تھا ویسا وہ

چوٹ لگی ہے شاید اُس کے بھی دل پر
آج دکھائی دیتا ہے مجھ جیسا وہ

میرا اور اصول ہے اُس کا اور قتیلؔ
پیار ہی پیار ہوں میں ، پیسہ ہی پیسہ وہ

Read in Roman

جیسا اس کے لیے سنا تھا ویسا ہے

جیسا اس کے لیے سنا تھا ویسا ہے
میں نے برسوں بعد اُسے اب دیکھاہے

ہر منظر کا ہوتا ہے اِک پس منظر
وہ لاکھوں میں ایک ہے لیکن تنہا ہے

میں دریا بن جاؤں بھی تو کیا حاصل
وہ ہے سمندر اور صدیوں کا پیاسا ہے

گیا تھا جب وہ اُس دن آگ بگولا تھا
واپس آیا ہے تو برف کا پتلا ہے

پھر ماضی کو چوما اس کے ہونٹوں نے
پھر اک لفظ مرے کانوں میں رویا ہے

میلہ لگا ہے چار طرف سنّاٹوں کا
کہیں کہیں کوئی سایا سسکی لیتا ہے

کانچ کا ہر جذبہ پیچھے ہم چھوڑ آئے
اب تو اپنا پکّی عمر کا رشتہ ہے

مجھ کو اپنے حال پہ آئے رحم قتیلؔ
میں نے اِک پنچھی کو اُڑتے دیکھا ہے

Read in Roman

کوکھ جلی

کوکھ جلی
(عاصیؔ رضوی مرحوم کی مختصر پنجابی نظم کا پھیلاؤ)

گاؤں سے باہر،
ٹیلے والی، اک درویش کی قبر کے اوپر
آدھی رات کو
جھلمل کپڑے، جگمگ زیور پہنے ہوئے
وہ کون تھی دیا جلانے والی
سب کچھ ہوتے جانے وہ کیا مانگ رہی تھی
رنگ رہی تھی کیوں اُجلا دو شالا اپنا کیسر میں
بٹر بٹر کیوں چاند کی جانب دیکھ رہی تھی
تکیہ اپنی چھاتی پر وہ کیوں رکھتی تھی
الگ وہ پتوں کی اک سیج بچھاتی کیوں تھی
سیج پہ لیٹی کہنی کے بل
اپنے آپ سے کیوں وہ باتیں کرتی تھی
اور پھر باتوں باتوں میں
وہ برہم کیوں ہو جاتی تھی
سب کچھ ہوتے چاہتی کیا تھی
جھلمل کپڑوں ،جگمگ زیوروں والی
اک درویش کی قبر کے اوپر
دئیے جلانے جاتی کیوں تھی؟

Read in Roman

وفا کا بوجھ ہے سر پر، مگر اُس کا یہ کہنا ہے

وفا کا بوجھ ہے سر پر، مگر اُس کا یہ کہنا ہے

کہ یہ پتھر پگھل جانے تک اُس کو زندہ رہنا ہے

وہ پربت کا اِک ایسا پیڑ ہے جس نے زمستاں میں

بدن کے ڈھانپنے کو برف کا ملبوس پہنا ہے

وہ اک سایا جو تحفے میں دیا تھا اُس کو خوابوں نے

وہی اب  اُس کا آنچل ہے وہی اب اُس کا گہنا ہے

لکھا تھا ریت پر اک دوسرے کا نام کیوں ہم نے

نتیجے میں جو صدمہ ہے وہ ہم دونوں کو سہنا ہے

ملیں گے سب یہاں جھوٹی خوشی پہنے ہوئے، ورنہ

قریب آکر جسے دیکھو،وہ اندر سے برہنہ ہے

قتیلؔ ایسی بھی اک عورت ہے اس رشتوں کی بستی میں

کہ جو ماں ہے نہ بیٹی ہے یہ بیوی ہے نہ بہنا ہے

Read in Roman

ہواؤں کی زبانی سُن لیا ہوگا ستاروں نے

ہواؤں کی زبانی سُن لیا ہوگا ستاروں نے

سندیسہ جو تجھے بھیجا ترےفرقت کے ماروں نے

وہ آنکھیں جو وضاحت کے سبھی انداز رکھتی تھیں

یہ کیا ابہام پیدا کر دیا ان کے اشاروں نے

کہااِک تجربے نے، دیکھ یہ ہوتی ہے مجبوری

گلے سے پتھروں کو جب لگایا آبشاروں نے

پہننے کو دیا آخر لبادہ خشک پتوں کا

خزاں کو ایک سوتیلی بہن سمجھا بہاروں نے

نظر آیا ہر اِک تصویر میں وہ آشنا چہرہ

رُلا ڈالا مصّور ہم کو تیرے شاہکاروں نے

خُدا جس کی زُباں سے بولتا تھا، وہ چڑھا سُولی

یہ نظارہ خود اپنی آنکھ سے دیکھا ہزاروں نے

وہ دیتا ہے قتیلؔ اور بے خوشامد مجھ کو دیتا ہے

خدا میرا نہیں دیکھا ترے پروردگاروں نے

Read in Roman

محبت ہو رہی ہے تازہ دم آہستہ آہستہ

محبت ہو رہی ہے تازہ دم آہستہ آہستہ

محبت ہو رہی ہے تازہ دم آہستہ آہستہ

بڑھائیں آپ بھی آگے قدم آہستہ آہستہ

تھکے پاؤں بھی ہم تیرے شبستاں کے مسافر ہیں

پہنچ ہی جائیں گے منزل پہ ہم آہستہ آہستہ

ترا ملنا تو کیا، پیغام ہی نے کر دیا ثابت

خوشی آئے تو مٹ جاتے ہیں غم آہستہ آہستہ

خود اُن کو ہم نے اپنے کعبہ ِ دل میں بسایا تھا

اب اس کعبے سے نکلیں گے صنم آہستہ آہستہ

ابھی تو وہ ہمارے شہرَ دل کے خاص مہماں ہیں

کُھلے گا حُسن والوں کا بھرم آہستہ آہستہ

بہت کم آس رکھنی چاہیے شادابیِ دل کی

برستا ہے یہاں ابرِ کرم آہستہ آہستہ

قتیلؔ انجام ہوتا کاش اپنا عاشقوں جیسا

کہ دم دیتے کسی زانو پہ ہم آہستہ آہستہ

Read in Roman