All posts by admin

اقراء

اِقراء

پیمبر سے کہا جبریل نے:
اِقراء
پیمبر نے کہا:
میں پرھ نہیں سکتا
مگر اُس لمحہِ نورد تجلّی کا نتیجہ تھا
کہ اِک اُمّی وہ عالم بن گیا
روئے زمیں پر جس سے بڑھ کر
کوئی بھی علم و بصیرت کا مالک نہ تھا
یہیں تک ختم ہوجاتا نہیں یہ سلسہ علم و بصیرت کا
پیمبر کے غلاموں تک نے پائی روشنی
علم و بصیرت کی
اُجالا ہو گیا مشرق سے مغرب تک
کہا میرے زمانے سے گزرتے وقت نے
اِقراء
کہا میرے زمانے نے
مجھے پڑھنا تو آتا ہے
مگر میں بھول جانا چاہتا ہوں سارے لفظوں کو
اور ان لفظوں میں پوشیدہ ہر اِک علم و بصیرت کو
کتابیں غرق ِدریا کرکے اطمینان و راحت چاہتا ہوں میں
کہ اب ایسا ہی کرنا چاہیے مجھ کو
گزرتے وقت نے پوچھا بھلا کیوں؟
کہا ــــــ علم و بصیرت اور کتب خانے مرے کس کام کے
جب ہر چوراہے پر
بلند آواز لاوڈ اسپیکروں سے وہ سبھی کچھ نشر ہوتا ہے
نفی ہوتی چلی جاتی ہے جس سے دم بدم عِلم و بصیرت کی
پھر اس کے ساتھ سچّی بات تو یہ ہے
نہ میں کوئی پیمبر ہوں نہ تو کوئی فرشتہ ہے
میں تیری بات کیوں مانوں ـــــ؟

Read in Roman

کچھ راحتوں کی کھوج میں آئی تھی زندگی

کچھ راحتوں کی کھوج میں آئی تھی زندگی
دیکھا تو اِک لحد میں سمائی تھی زندگی

کیا کیا نہ ایک شخص نے رکھی سنبھال کر
معلوم اب ہوا کہ پرائی تھی زندگی

ہوجائے ریزہ ریزہ لگے جب ذرا سی ٹھیس
کیا سوچ کر خُدا نے بنائی تھی زندگی

تھا دشمنوں کے واسطے عبرت کا یہ مقام
کاندھے پہ دوستوں نے اُٹھائی تھی زندگی

واپس گئی عدم کی طرف خاک اوڑھ کر
سانسیں پہن کے دہر میں آئی تھی زندگی

اُڑتا ہوا وہ ایک پرندہ ہے اب کہاں
اپنے پروں پہ جس نے سجائی تھی زندگی

دیکھا قمار خانہ ِ ہستی میں جب قتیلؔ
داؤ پہ ہر بشر نے لگائی تھی زندگی

(ڈاکٹر یوسف کی رحلت پر)

Read in Roman

آخر وہ میرے قد کی بھی حد سے گزر گیا

آخر وہ میرے قد کی بھی حد سے گزر گیا
کل شام میں تو اپنے ہی سائے سے ڈر گیا

مٹھی میں بند کیا ہوا بچوں کے کھیل میں
جگنو کے ساتھ اس کا اجالا بھی مر گیا

کچھ ہی برس کے بعد تو اس سے ملا تھا میں
دیکھا جو میرا عکس تو آئینہ ڈر گیا

ایسا نہیں کہ غم نے بڑھا لی ہو اپنی عمر
موسم خوشی کا وقت سے پہلے گزر گیا

لکھنا مرے مزار کے کتبے پہ یہ حروف
“مرحوم زندگی کی حراست میں مر گیا”

Read in Roman

گریہ مسّرت

گریہ مسّرت

احباب سے چُھپ چُھپ کے بھی رویا ہوں میں اکثر
پر آج بھری بزم میں
رونے کا مزا اور ہی کچھ ہے

احباب کو حیرت، کہ مرے قہقہ بردار لبوں پر
کیوں لے گئیں سبقت مری بھیگی ہوئی پلکیں
مرے تپتے ہوئے آنسو

شاید مرے احباب کو معلوم نہیں ہے
اظہارِ مسرت کبھی ہوتا ہے جو رو کر
سو بار کا ہنسنا بھی اُسے چھُو نہیں سکتا
آنسو ہیں وہ موتی
پلکوں کے صدف سے جو نکلتے ہیں اُسی دم
جب دل کے سمندر میں
خوشی کا کوئی طوفان بپا ہو
طوفان سما سکتا نہیں صرف ہنسی میں
آنسو ہی اُسے اپنی تراوت میں سمیٹیں تو سمیٹیں
آنسو کہ جسامت میں ہیں قطرے سے بھی کچھ کم
اظہارِ مسرت میں سمندر سے بڑے ہیں

بے حِس مرے احباب ہیں
کاش اُن کو بتائے کوئی ہمدم
حاصل جو خوشی آج ہوئی ہے مرے دل کو
شاید وہ تبسّم میں سمیٹی ہی نہ جاتی
ہونٹوں پہ تبسّم بھی بُہت خوب ہے لیکن
آنکھوں میں ترشح کی فضا اور ہی کچھ ہے
اس بزم میں رونے کا مزا اور ہی کچھ ہے

Read in Roman

روکا ہے تو نے جس کو سدا عرضِ حال سے

روکا ہے تو نے جس کو سدا عرضِ حال سے
ہجرت وہ کر گیا ترے شہرِ وصال سے

وہ مر گیا جب اس کی سکونت بدل گئی
جیون سے بڑھ کے پیار تھا پنچھی کو ڈال سے

بندھوا رہا تھا جو مرے پاؤں میں بجلیاں
آگے بڑھا نہ خود وہ حدِ اعتدال سے

تھی ایسی بے خودی کہ جب آیا وہ سامنے
مفہوم گِر گیا مرے دستِ سوال سے

تھا میں بھی حکمراں کبھی اقلیمِ حُسن پر
کچھ لے سبق رقیب مرے ہی زوال سے

برسوں چلے قتیل زمانے کے ساتھ ہم
واقف ہوئے نہ پھر بھی زمانے کی چال سے

Read in Roman

اپنے لبوں کو دشمنِ اظہار مت بنا

اپنے لبوں کو دشمنِ اظہار مت بنا
سچے ہیں جو انہی کو گنہگار مت بنا

دل کو دُبا دُبا کے نہ رکھ دھڑکنوں تلے
بے چینیوں کے لطف کو آزار مت بنا

جتنے بھی لفظ ہیں وہ مہکتے گلاب ہیں
لہجے کے فرق سے انھیں تلوار مت بنا

ترکِ وفا کا جُرم نہ مانے گا تو نہ میں
اِس مسئلے کو باعثِ تکرار مت بنا

الزام کچھ تو گردشِ ایام کو بھی دے
اپنے ہر ایک غم کو غمِ یار مت بنا

آمیرے بازوؤں میں کہ ساحل پہ جا لگیں
اِس موج موج وقت کو منجھدار مت بنا

تیرا یہ ضبط، اور وہ شعلہ سا آدمی
سورج کے آگے موم کی دیوار مت بنا

شاید وہ تیرے منہ پہ ہی سچ بولنے لگے
چہرے کو آئینے کا پرستار مت بنا

ہر ایک کے لئے نہ کھلا رکھ اسےقتیلؔ
یہ دل ہے ایک گھر اسے بازار مت بنا

Read in Roman

ڈرو اُس وقت سے

ڈرو اُس وقت سے

ڈرو اُس وقت سے
اے شاعرو، اے نغمہ خوانو، اے صنم سازو
اچانک جب تُمہاری سمت
کُچھ صدیوں پرانے شیش محلوں سے
سُنا سن تیر برسیں گے
بُہت چِلّاو گے تُم
اور پُکارو گے بہت باذوق دُنیا کو
مگر با ذوق دُنیا کا ہر اِک باشندہ
پہلے ہی گھائل ہو چُکا ہو گا
جو باقی لوگ ہوں گے
وہ تُمھارا ساتھ کب دیں گے
کہ وہ تو رجعتوں کی ہیروئن پینے کے عادی ہو چُکے ہوں گے
اُنھیں تو صرف وہ باتیں بھلی معلوم ہوں گی
جہالت کا اندھیرا اور بھی ان کی رگوں میں جن سے بھر جائے
وہ باتیں —-
عقل و استدلال کا اِک شائبہ جن میں نہیں ہوتا
یہ مانا تم بہت سمجھاؤ گے اُن کو
مگر کوئی نہ سمجھے گا
اور اِس دورِ سیاہی میں
جو برپا کربلا ہوگا
وہاں کوئی بھی حُر پیدا نہیں ہوگا تمھاری پاسداری کو
مِلیں گے سب تمھارے خون کے پیاسے
ڈرو اُس وقت سے
اے شاعرو، اے نغمہ خوانو، اے صنم سازو
جو ممکن ہو تو بڑھ کر روک لو
اُس آنے والے وقت کا رستہ

Read in Roman

صحراوں میں اک چھاؤں سی بکھراتی رہے گی

صحراوں میں اک چھاؤں سی بکھراتی رہے گی
رُت کوئی بھی ہو، زُلف وہ لہراتی رہے گی

تم چھین تو لو گے مرے ساون کی گھٹائیں
آواز پپیہے کی مگر آتی رہے گی
*پپیہے = کویل کی طرح کا مگر اس سے چھوٹا ایک خوش آواز پرندہ، اسے سنسکرت میں چاتک کہتے ہیں

جاتا رہا خوابوں میں خلل ڈالنے والا
اب دن میں بھی اکثر تمھیں نیند آتی رہے گی

بخشے گی نہ اس کو کوئی سورج کی عدالت
یہ رات ستاروں کی قسم کھاتی رہے گی

کچھ ضبط نہ کر پائیں گے عشّاق بھی تیرے
کُچھ صورتِ حالات بھی جذباتی رہے گی

صحرا کو نہ چھوڑے گا کبھی شہر کی خاطر
دُنیا تِرے دیوانے کو سمجھاتی رہے گی

تُجھ پر بھی قتیل آن پڑی جب کوئی اُفتاد
سب زندہ دلی یار تری جاتی رہے گی

Read in Roman

بے ذوق تھی یا حُسن سے آگاہ تھی پہلے

بے ذوق تھی یا حُسن سے آگاہ تھی پہلے
کیسی تری دُنیا مرے اللہ تھی پہلے

میں نے تو سُنا ہے کہ یہ دُنیا تری یا رب!
شاعر کے خیالوں کی گزرگاہ تھی پہلے

کرنے کو ہے انسان خلاؤں کو بھی آباد
جو آج حقیقت ہے وہ افواہ تھی پہلے

اب واعظ و ناصح جہاں کرتے ہیں عبادت
کہتے ہیں وہ اِک رند کی درگاہ تھی پہلے

چھینا ہے مِرا جام اُن آنکھوں نے وگرنہ
اس چیز سے بچنے کی کہاں راہ تھی پہلے

تھا رشک رقیبوں کو مرے حُسن نظر پر
اک حسن کی دیوی مرے ہمراہ تھی پہلے

نزدیک سے دیکھا ہے قتیلؔ اب کے گھر اپنا
جنت کی مرے دل میں بُہت چاہ تھی پہلے

Read in Roman